خبر ایجنسی كے مطابق: وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی ٹوئٹ پر لیسکو کا ایکشن: لائن سپرنٹنڈنٹ سمیت 3 فیلڈ اہلکار معطل، ہائی لیول انکوائری کمیٹی قائم
پاكستان پھول نگر (خبر ایجنسی 2026-05-31): وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی جانب سے سوشل میڈیا پر مبینہ رشوت خوری کے الزامات سامنے آنے کے بعد لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (LESCO) کی انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ لیسکو چیف ایگزیکٹو کے فوری حکم پر کارروائی کرتے ہوئے ایک لائن سپرنٹنڈنٹ اور دو لائن مینوں کو معطل کر کے ان کے خلاف محکمانہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
معطل کیے گئے فیلڈ اسٹاف کی تفصیلات
ایکسیئن (XEN) پھول نگر ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق معطل ہونے والے عملے میں درج ذیل اہلکار شامل ہیں:
- محمد حسین (لائن سپرنٹنڈنٹ)
- شوکت (لائن مین)
- فلک شیر (لائن مین)
ٹیکنیکل پوزیشن اور لیسکو انتظامیہ کا مؤقف
تکنیکی صورتحال اور واقعے کے پسِ منظر پر وضاحت دیتے ہوئے ایکسیئن پھول نگر نے بتایا کہ متعلقہ گاؤں (چک نمبر 27) میں نصب 200 کلوواٹ کا ٹرانسفارمر اوور لوڈنگ یا فنی خرابی کے باعث جل گیا تھا۔ متبادل اور فوری انتظام کے طور پر لیسکو کا فیلڈ عملہ وہاں 100 کلوواٹ کا عارضی ٹرانسفارمر نصب کر رہا تھا تاکہ علاقے کی بجلی فی الفور بحال کی جا سکے۔
تاہم، موقع پر موجود عملے کو کام کرنے سے روک دیا گیا۔ ایکسیئن کے مطابق:
“گاؤں کے کچھ مقامی افراد اور وفاقی وزیر خواجہ آصف کے علاقائی کوآرڈینیٹر نے لیسکو عملے کو کم صلاحیت (100 کلوواٹ) کا ٹرانسفارمر لگانے سے منع کیا اور کام رکوا دیا۔”
ایکسیئن پھول نگر نے مزید تصدیق کی کہ انہوں نے خود چک 27 کا تفصیلی دورہ کر کے حقائق کا جائزہ لیا ہے، لیکن اب تک کسی بھی مقامی شہری یا مدعی کی طرف سے لیسکو کے معطل عملے کو نقد رقم یا رشوت دینے کا کوئی ٹھوس یا دستاویزی ثبوت (Evidence) فراہم نہیں کیا جا سکا۔
وفاقی وزیر کا الزام اور ‘نجی ٹاؤٹ’ کا انکشاف
واضح رہے کہ یہ ہائی پروفائل معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پبلک شکایت درج کروائی کہ ان کے ذاتی ملازم کے گاؤں کا ٹرانسفارمر تبدیل کرنے کے عوض لیسکو کے عملے نے 80 ہزار روپے بطور رشوت وصول کیے۔
اس کے برعکس، لیسکو کے باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندرونی معلومات کے مطابق رقم کی مبینہ لین دین میں لیسکو کا کوئی ملازم براہِ راست ملوث نہیں ہے۔ گاؤں کے ہی ایک نجی شخص “شبیر” نے مبینہ طور پر اہلخانہ اور دیہاتیوں سے فنڈز کے نام پر پیسے اکٹھے کیے تھے۔ لیسکو حکام نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ شخص شبیر کا لیسکو انتظامیہ، گریڈ یا عملے سے کوئی باقاعدہ یا قانونی تعلق نہیں ہے اور وہ بطور نجی کارندہ سرگرم تھا۔
ڈائریکٹر سرویلینس کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تحقیقات
وزارتِ دفاع کی سطح سے آنے والی شکایت کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) لیسکو نے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے۔ معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر سرویلینس اینڈ انسپکشن (Surveillance & Inspection Team) کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
لیسکو ترجمان کے مطابق، معطل ملازمین کو انکوائری کا سامنا کرنا ہوگا؛ اگر وہ بے قصور ثابت ہوئے تو انہیں قواعد کے مطابق بحال کر دیا جائے گا، تاہم اگر ان کا اس نجی شخص (شبیر) کے ساتھ کسی بھی قسم کا گٹھ جوڑ یا تکنیکی غفلت ثابت ہوئی، تو لیسکو سروس رولز کے تحت نوکری سے برخاستگی اور سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔(خبر ایجنسی)








































