اسلام آباد(خبر ایجنسی): پہلی پرواز کے حاجی اشکبار آنکھوں کے ساتھ خیر عافیت سے وطن پہنچ آئے ، 40 دن میں 61 ہزار سے زائد حاجی واپس آئیں گے
اسلام آباد خبر ایجنسی: پینتیس سال کے انتظار کے بعد ملنے والی سعادت مکمل ہوئی تو جذبات قابو میں نہ رہے۔ حج 2026 کی پہلی پرواز پی کے 742 جیسے ہی اسلام آباد بین الاقوامی ایئرپورٹ کے رن وے پر اتری تو 117 حاجیوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
رات 11:47 بجے جہاز کا دروازہ کھلا۔ سفید احرام میں ملبوس مرد و خواتین سیڑھیوں سے اترے تو پہلا کام یہی کیا: ماتھا زمین پر ٹیک دیا۔ کئی نے سجدہ شکر ادا کیا، کوئی “لبیک اللہم لبیک” کی صدائیں بلند کر رہا تھا تو کوئی “پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگا رہا تھا۔ پینتیس سے چالیس دن کی روحانی تربیت کے بعد وطن کی مٹی کو چومنے کا منظر دیدنی تھا۔
آفتاب گیلانی نے استقبال کیا
ایئرپورٹ کے چیف آپریٹنگ آفیسر آفتاب گیلانی اپنی پوری ٹیم کے ساتھ ایمرجنسی گیٹ پر موجود تھے۔ جیسے ہی حاجی سیڑھیوں سے اترے، آفتاب گیلانی نے ہر حاجی سے ہاتھ ملایا، گلے لگایا اور مبارکباد دی۔ ان کے ساتھ سعودی عرب کے سفارت خانے کے قونصل جنرل اور عملہ بھی موجود تھا۔
آفتاب گیلانی نے بتایا کہ “روڈ ٹو مکہ” منصوبے کی برکت سے حاجیوں کو ایئرپورٹ پر کوئی کاغذی کارروائی نہیں کرنی پڑی۔ امیگریشن، کسٹم اور سامان کی کلیئرنس سب مکہ ایئرپورٹ پر ہی ہو چکی تھی، اس لیے حاجی سیدھا سیڑھیوں سے اتر کر اپنے پیاروں سے لپٹ گئے۔
پھول اور اشک بار آنکھیں
استقبالیہ ہال کو گلاب کی پتیوں سے سجایا گیا تھا۔ پی آئی اے کے عملے نے اترتے ہی ہر حاجی پر پھول نچھاور کیے۔ بوڑھی عورتوں کے قدم لڑکھڑا رہے تھے۔ ایک 70 سالہ حاجیہ نے سجدے سے سر اٹھاتے ہوئے کہا: “بیٹا، 35 سال دعا مانگی تھی، آج اللہ نے سن لی۔”
نوجوان بیٹے اپنے والدین کو سہارا دے کر لے جا رہے تھے، بچے اپنے دادا دادی سے لپٹ کر رو رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر سیکیورٹی اہلکاروں کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
“روڈ ٹو مکہ” کا فائدہ
اس سال “روڈ ٹو مکہ” منصوبے کے تحت پاکستان کے تین ایئرپورٹس – کراچی، لاہور اور اسلام آباد – سے جانے والے حاجیوں کی امیگریشن مکہ میں ہی مکمل کر دی گئی تھی۔ نتیجے میں واپسی پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر حاجیوں کو پانچ منٹ سے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ سامان بیلٹ پر آیا اور وہ سیدھا گھر روانہ ہو گئے۔
سعودی سفارت خانے کے حکام نے کہا کہ یہ منصوبہ حجاج کے لیے سب سے بڑا ریلیف ہے۔ پہلے واپسی پر دو سے تین گھنٹے لائن میں لگنا پڑتا تھا، اب بزرگ حاجی تھکے بغیر گھر پہنچ رہے ہیں۔
آگے کا شیڈول
پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق اگلے چالیس دنوں تک روزانہ تین سے چار پروازیں حجاج لے کر آئیں گی۔ حکومتی اسکیم کے تحت 55,786 اور پرائیویٹ اسکیم کے تحت 6,200 حاجی واپس پہنچیں گے، اس طرح کل 61,986 حاجی وطن لوٹیں گے۔
اگلی پرواز پی کے 744 کل صبح جدہ سے 160 حاجیوں کو لے کر آئے گی۔ تمام ایئرپورٹس پر ویسا ہی استقبال کیا جائے گا جیسا آج اسلام آباد میں ہوا۔
حاجیوں کے جذبات
کراچی سے تعلق رکھنے والے محمد یوسف نے کہا: “منی میں 50 ڈگری گرمی تھی، لیکن جب عرفات کے میدان میں کھڑے تھے تو لگا جنت کی ہوا آ رہی ہے۔” لاہور کی فاطمہ بی روتے ہوئے بولیں: “بیٹی کی شادی کی دعا مانگ کر آئی ہوں، اب سکون سے مروں گی۔”
ہر حاجی کے ہاتھ میں زم زم کی بوتلیں تھیں، کھجوریں تھیں، اور دل میں ایک ہی دعا تھی: “یا اللہ دوبارہ بلا لینا۔”
حکومتی انتظامات
وفاقی حکومت نے ہدایت دی تھی کہ پہلی پرواز کا استقبال قومی سطح پر کیا جائے، چنانچہ وزیر مذہبی امور کی ہدایت پر اسلام آباد ایئرپورٹ کو دلہن کی طرح سجایا گیا۔ ایمبولینس، میڈیکل ٹیم اور وہیل چیئرز سب موجود تھیں، کسی حاجی کو شکایت کا موقع نہیں ملا۔








































