تہران (خبر ایجنسی) – 31 مئی 2026
خلیج فارس کے حساس پانیوں میں ایک بار پھر فوجی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک امریکی جاسوسی ڈرون کو ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مار گرایا۔
کارروائی کی تفصیلات
خفیہ خبر ایجنسی کے مطابق، IRGC کے فضائی دفاعی یونٹس نے مقامی وقت کے مطابق صبح قریب 8 بجے خلیج فارس کے وسطی حصے میں ایک امریکی MQ-1 پریڈیٹر ڈرون کو نشانہ بنایا۔ ترجمان نے بتایا کہ یہ ڈرون ایرانی فضائی حدود میں داخل ہو رہا تھا جسے جدید ترین راڈار سسٹم نے فوری طور پر ٹریک کر لیا۔
· ڈرون کی قسم: MQ-1 پریڈیٹر (امریکی ساختہ، جاسوسی اور ہدفی حملوں کی صلاحیت والا)
· مار گرانے والا نظام: IRGC کا زمین سے فضاء میں مار کرنے والا میزائل سسٹم (تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں)
· مقام: خلیج فارس کے جنوبی حصے میں، ایرانی اعلان کردہ فضائی حدود کے اندر
IRGC کے ترجمان نے کہا:
“ہماری سرحدیں، چاہے وہ زمینی ہوں یا فضائی، ہمارے لیے لائن آف ڈیتھ ہیں۔ کسی بھی غیر ملکی اثاثے کو بغیر اجازت داخل ہوتے دیکھتے ہی تباہ کر دیا جائے گا۔”
امریکی ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا
واقعے کے تقریباً بارہ گھنٹے گزرنے کے بعد بھی امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) اور سنٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ وہ “اس دعوے کی تصدیق کے لیے انٹیلی جنس ذرائع کا جائزہ لے رہے ہیں۔”
عسکری ماہرین کے مطابق، اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ 2019 میں ایران کے ذریعے امریکی RQ-4 گلوبل ہاک ڈرون کو مار گرانے کے بعد خلیج فارس میں ہونے والا سب سے سنگین فوجی تصادم ہوگا۔
خطے پر ممکنہ اثرات
ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کا واقعہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں قیمتیں اچھل سکتی ہیں۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے فوری طور پر تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
وضاحت: شاہد اور امریکی ڈرون میں فرق
قارئین کی راہنمائی کے لیے واضح رہے کہ “شاہد” ایرانی ساختہ ڈرونز (جیسے شاہد 136) کا ایک خاندان ہے، جس کا اس خبر سے کوئی تعلق نہیں۔ جس ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے وہ امریکی MQ-1 پریڈیٹر ہے۔ دونوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔ (خبر ایجنسی)








































