امریکہ، ایران اور معاہدۂ ابراہیمی: مشرقِ وسطیٰ میں نئی سفارتی صف بندیاں
خبر ایجنسی (26 مئی 2026ء) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور کے آغاز کے ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک بار پھر غیر معمولی سفارتی سرگرمیوں کی زد میں آ گئی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور ’’معاہدۂ ابراہیمی‘‘ کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوششوں نے خطے میں نئی سیاسی صف بندیاں پیدا کر دی ہیں۔
ایک جانب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان منجمد اثاثوں کی بحالی اور آبنائے ہرمز کی بحالیِ تجارت سے متعلق اہم مذاکرات جاری ہیں، تو دوسری جانب صدر ٹرمپ نے مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران سے ممکنہ مفاہمت کے بعد اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے ’’معاہدۂ ابراہیمی‘‘ میں شامل ہوں۔
تاہم پاکستان اور سعودی عرب سمیت کئی اہم مسلم ممالک نے واضح کیا ہے کہ مسئلۂ فلسطین کے منصفانہ حل کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
معاہدۂ ابراہیمی کیا ہے؟
’’معاہدۂ ابراہیمی‘‘ (Abraham Accords) کا آغاز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں 2020ء کے دوران ہوا، جس کا مقصد عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی تھا۔
15 ستمبر 2020ء کو وائٹ ہاؤس میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدوں پر دستخط کیے، بعد ازاں مراکش اور سوڈان بھی اس عمل کا حصہ بنے۔
اس معاہدے کو تین ابراہیمی مذاہب — اسلام، عیسائیت اور یہودیت — کی نسبت سے ’’ابراہیمی‘‘ نام دیا گیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اسے مشرقِ وسطیٰ میں ’’امن کی نئی بنیاد‘‘ قرار دیا، جبکہ ناقدین نے فلسطینی مسئلے کو نظرانداز کرنے پر شدید تنقید کی۔
دوحہ مذاکرات اور نئی ایران ڈیل
سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام دوحہ پہنچ چکے ہیں، جہاں قطری ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات جاری ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کے منجمد مالیاتی اثاثوں کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی مکمل بحالی زیرِ غور ہے۔ ان اطلاعات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور پینٹاگون حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن فوجی اقدامات سے قبل سفارت کاری کو مکمل موقع دینا چاہتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا:
“تہران کے ساتھ معاہدہ یا تو شاندار ہو گا یا پھر بالکل نہیں ہو گا۔ بصورتِ دیگر دنیا ایک بڑے تصادم کی طرف جا سکتی ہے۔”
مسلم قیادت پر ٹرمپ کا دباؤ
صدر ٹرمپ نے ایران ڈیل کو ’’معاہدۂ ابراہیمی‘‘ کی توسیع سے جوڑتے ہوئے مسلم دنیا کے اہم رہنماؤں پر اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا ہے۔
انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، اماراتی صدر محمد بن زاید، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم سمیت متعدد رہنماؤں کا نام لیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ خطے میں ’’جامع امن‘‘ کے لیے اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔
ٹرمپ کے مطابق اگر مسلم ممالک اجتماعی طور پر اس معاہدے کا حصہ بنتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں ’’ہزاروں برس بعد حقیقی امن اور معاشی استحکام‘‘ ممکن ہو سکے گا۔
سعودی عرب کا واضح مؤقف
سعودی عرب نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں کیے جا سکتے۔
ریاض کے مطابق:
- غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ،
- 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست،
- اور مشرقی یروشلم کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنا
کسی بھی ممکنہ سفارتی پیش رفت کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
پاکستان کا دوٹوک ردعمل
پاکستان نے بھی ’’معاہدۂ ابراہیمی‘‘ میں شمولیت سے متعلق امریکی مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق:
- ایران ڈیل اور معاہدۂ ابراہیمی دو الگ معاملات ہیں،
- پاکستان اپنی آزاد خارجہ پالیسی پر قائم ہے،
- اور قائداعظم محمد علی جناح کے اصولوں کے مطابق فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق دیے بغیر کسی نئے سفارتی فارمولے کی حمایت ممکن نہیں۔
عالمی تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟
بین الاقوامی مبصرین اس نئی امریکی حکمتِ عملی کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔
کچھ ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو ’’معاہدۂ ابراہیمی‘‘ سے جوڑ کر مسلم دنیا پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں، جبکہ بعض مغربی تجزیہ کار اسے خطے میں طویل المدتی امن کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ موجودہ مذاکرات صرف مالیاتی اور علاقائی معاملات تک محدود ہیں اور جوہری پروگرام پر کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوئی۔خبر ایجنسی
مستقبل کا منظرنامہ
مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نئے سفارتی موڑ پر کھڑا ہے، جہاں امریکہ ایران کے ساتھ مفاہمت اور اسرائیل کی علاقائی قبولیت کو بیک وقت آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ تاہم غزہ کی صورتحال، فلسطینی مسئلہ اور مسلم دنیا کے عوامی جذبات ایسے عوامل ہیں جو اس عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے حالیہ مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر ’’معاہدۂ ابراہیمی 2.0‘‘ کو وسیع مسلم حمایت حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا، چاہے واشنگٹن اور تہران کے درمیان محدود نوعیت کا کوئی معاہدہ طے پا بھی جائے۔(خبرایجنسی)








































