خبر ایجنسی کے مطابق روس کے بحری جہازوں کی پاکستانی بندرگاہوں پر آمد شروع۔روس کے کارگو جہازوں نے بلوچستان کی *گوادر پورٹ* پر باقاعدہ آپریشن شروع کر دیے ہیں۔ یہ پورٹ CPEC کا سب سے اسٹریٹیجک حصہ ہے۔*تفصیلات:*- *سامان*: روسی اور سینٹرل ایشین شپمنٹس میں انڈسٹریل مشینری، کھاد، خام مال شامل ہیں۔ مالیت ملین ڈالرز میں ہے- *فریکوئنسی*: حالیہ مہینوں میں روسی اور سینٹرل ایشین امپورٹس گوادر کے ذریعے ڈرامائی طور پر بڑھی ہیں- *ٹارگٹ*: ماہرین کا اندازہ ہے کہ مکمل آپریشنل ہونے پر سالانہ کارگو 400 ملین ٹن سے تجاوز کر سکتا ہے*اہمیت:*1. *CPEC ایکٹیویشن*: ماہرین اسے چائنا-پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے “ٹرانسفارمیٹیو مومنٹ” کہہ رہے ہیں2. *سینٹرل ایشیا کا گیٹ وے*: قازقستان، ازبکستان، کرغیزستان اب پاکستان کے راستے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کر رہے ہیں3. *انفراسٹرکچر*: پاکستان نے نئی برتھز، کارگو ایکوپمنٹ لگائے ہیں۔ پورٹ کے گرد 5,000 ایکڑ پر اسپیشل اکنامک زون بن رہا ہےعلاوہ ازیں تقریباً 10 دن پہلے روسی بحریہ کا فلوٹیلا *کراچی پورٹ* پہنچا۔ اس میں 2 فریگیٹس اور ایک میڈیم سی ٹینکر شامل تھا*مقصد:*- *گڈول وزٹ*: روسی جہازوں کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا- *جوائنٹ ایکسرسائز*: روسی اور پاکستانی بحریہ نے انٹرآپریبلٹی بڑھانے کے لیے مشترکہ مشقیں کیں- *پروفیشنل ڈسکشنز*: دونوں بحریہ کے افسران کے درمیان میری ٹائم کوآپریشن پر بات چیت ہوئیپاکستان نیوی نے اسے “میری ٹائم ڈپلومیسی کا اہم سنگ میل” قرار دیا3. *سیکیورٹی اور اسٹریٹیجک پہلو*- *سیکیورٹی*: پاکستان نیوی اور میری ٹائم سیکیورٹی فورسز نے گوادر پر محفوظ آپریشنز یقینی بنائے ہیں۔ ان کی کارکردگی کو انٹرنیشنل لیول پر سراہا گیا ہے- *جیو اسٹریٹیجی*: پاکستان کا محل وقوع سینٹرل ایشیا کو گرم پانیوں تک سب سے چھوٹا راستہ دیتا ہے۔ یہ گوادر کو علاقے کے روایتی حریفوں سے آگے رکھتا ہے- *علاقائی اثر*: یہ شفٹ یوریشیا اور مڈل ایسٹ کے ٹریڈ روٹس کو ری شیپ کر سکتی ہے*خلاصہ*: روس اب گوادر کو ٹریڈ ہب اور کراچی کو نیول کوآپریشن کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے جیو اکنامک اور دفاعی دونوں لحاظ سے اہم پیش رفت ہے۔ www.khabar.agency









































