اسلام آباد خبر ایجنسی کے مطابق:9 جون 2026
گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 میں سے 23 حلقوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج نے ایک دلچسپ سیاسی صورت حال پیدا کردی ہے جس میں پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت تو بن گئی ہے لیکن اسے حکومت سازی کے لیے آزاد امیدواروں یا مسلم لیگ ن کا سہارا لینا پڑے گا
خبر ایجنسی کے مطابق اب تک حاصل ہونے والے نتائج میں پاکستان پیپلز پارٹی 9 مسلم لیگ ن 5 مجلس وحدت المسلمین 1 اور آزاد امیدواروں نے 8 نشستیں حاصل کی ہیں صرف ایک حلقے کے نتائج کا ابھی انتظار ہے
خبر ایجنسی کے مطابق پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدواروں میں امجد حسین جی بی اے 1 گلگت محمد علی اختر جی بی اے 4 نگر ون ذوالفقار علی مراد جی بی اے 5 نگر ٹو سید تقی مہدی جی بی اے 7 سکردو ون فدا محمد نشاد جی بی اے 9 سکردو تھری ناصر علی خان جی بی اے 10 سکردو فور اقبال حسن جی بی اے 11 خرمنگ عمران ندیم جی بی اے 12 شگر اور سید جلال شاہ جی بی اے 19 غذر ون شامل ہیں
خبر ایجنسی کے مطابق مسلم لیگ ن کے کامیاب امیدواروں میں کیفایت الرحمن جی بی اے 18 دیامر فور عبداللہ جان جی بی اے 20 غذر ٹو اور محمد ابراہیم سنائی جی بی اے 22 گانچھے ون شامل ہیں جبکہ مجلس وحدت المسلمین کی واحد کامیابی جی بی اے 8 سکردو ٹو سے محمد کاظم نے حاصل کی جنہوں نے پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ کو شکست دی
خبر ایجنسی کے مطابق آزاد امیدواروں نے اچھی خاصی نشستیں حاصل کی ہیں جن میں سید سہیل عباس جی بی اے 3 گلگت تھری نیک نام کریم جی بی اے 6 ہنزہ محمد دلپذیر جی بی اے 15 دیامر ون سید امام ملک جی بی اے 16 دیامر ٹو امان علی جی بی اے 21 غذر تھری انور علی جی بی اے 23 گانچھے ٹو اور اسد شفیق جی بی اے 24 گانچھے تھری شامل ہیں
یہ تمام نتائج غیر حتمی اور غیر سرکاری نوعیت کے ہیں خبر ایجنسی کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دو حلقوں جی بی اے 3 گلگت اور جی بی اے 20 غذر ٹو میں دوبارہ گنتی کا حکم دیا ہے جبکہ جی بی اے 16 دیامر ٹو کے تین پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا فیصلہ کیا ہے
خیال رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے جن میں 24 جنرل نشستیں 6 خواتین کے لیے مخصوص اور 3 ٹیکنوکریٹس کے لیے مخصوص ہیں حکومت بنانے کے لیے 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہے
خبر ایجنسی کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی جماعت گلگت بلتستان میں واحد سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھر رہی ہے اور وہ حکومت بنانے کی کوشش کریں گے
خبر ایجنسی کے مطابق مجموعی طور پر 403 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے تھے جن میں 8 خواتین بھی شامل تھیں پاکستان پیپلز پارٹی نے 23 مسلم لیگ ن نے 22 اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی تعداد 19 تھی
پاکستان تحریک انصاف نے گلگت بلتستان الیکشن کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے وائٹ پیپر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے خبر ایجنسی کے مطابق چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کو انتخابی مہم چلانے سے روکا گیا
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بھی ان الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان الیکشن 2024 کے عام انتخابات کی تکرار ہے
خبر ایجنسی کے مطابق گلگت بلتستان میں 10 اضلاع ہیں جہاں 963034 ووٹرز تھے جن میں 566097 مرد اور 396937 خواتین شامل تھیں الیکشن کے دوران 1368 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جن میں 457 عام 350 حساس اور 480 انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن شامل تھے
الیکشن کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور تقریبا 15000 اہلکار تعینات کیے گئے تھے پولنگ صبح سے شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہی اور ووٹروں میں خاصا جوش و خروش دیکھا گیا
خبر ایجنسی کے مطابق سب سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی جی بی اے 23 گانچھے ٹو میں آزاد امیدوار انور علی نے حاصل کی جنہوں نے 12117 ووٹ حاصل کیے جبکہ دوسرے نمبر پر آزاد امیدوار عبدالحمید 4119 ووٹ لے کر رہے
جی بی اے 12 شگر میں پیپلز پارٹی کے عمران ندیم نے 12944 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ دوسرے نمبر پر آزاد امیدوار راجہ اعظم خان 8682 ووٹ لے کر رہے
وزیر اعظم پاکستان اور مسلم لیگ ن کی قیادت نے ابھی تک ان نتائج پر کوئی باقاعدہ ردعمل جاری نہیں کیا ہے
خبر ایجنسی کے مطابق دوبارہ گنتی اور دوبارہ پولنگ کے عمل کے بعد حتمی نتائج کا انتظار کیا جائے گا اور اس کے بعد گلگت بلتستان میں نئی حکومت کے قیام کے لیے باقاعدہ کوششیں شروع ہوں گی
اسلام آباد سے خبر ایجنسی کے ایجنٹس نے بتایا کہ سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اگر 9 نشستوں پر کامیاب ہوگئی ہے تو اسے حکومت بنانے کے لیے آزاد امیدواروں یا مسلم لیگ ن کی حمایت درکار ہوگی کیونکہ 17 نشستوں کا ہندسہ پورا کرنا ضروری ہے(خبر ایجنسی)








































