اسلام آباد (خبر ایجنسی): رواں برس 2026 میں سرکاری حج اسکیم کے تحت ایک لاکھ 19 ہزار 210 پاکستانی حاجیوں نے فریضہ حج ادا کیا، جبکہ اس عظیم مذہبی فریضے کی ادائیگی پر مجموعی طور پر 139 ارب 16 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ وزارت مذہبی امور کے مطابق اس سال حج انتظامات میں شفافیت اور سہولیات کو مزید بہتر بنایا گیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
طویل حج پروگرام (لانگ حج) اکثریت کی پہلی ترجیح
سرکاری حج اسکیم کے تحت حاجیوں کو دو پروگراموں میں سے انتخاب کرنے کا موقع دیا گیا تھا: طویل مدتی (40 سے 45 روزہ) اور مختصر مدتی (20 سے 22 روزہ)۔ اعداد و شمار کے مطابق، 77 ہزار 743 حاجیوں نے طویل حج پروگرام کا انتخاب کیا، جو کل حاجیوں کا 65.2 فیصد بنتے ہیں۔ ان حاجیوں نے فی کس 11 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کیے۔
طویل پروگرام کے حامل حاجیوں کو سعودی عرب میں قیام کے دوران مکمل بورڈنگ، لاجسٹک سپورٹ، رہائش، خوراک اور طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ اس پروگرام کا مقصد حاجیوں کو زیادہ سے زیادہ روحانی سکون اور عبادت کا موقع دینا تھا، خاص طور پر بوڑھوں اور کمزور افراد کے لیے یہ پروگرام زیادہ موزوں رہا۔ ماہرین کے مطابق طویل قیام سے حاجی مناسک حج کو سکون اور تفصیل سے ادا کر سکتے ہیں، اور دوران حج پیش آنے والی جسمانی تھکاوٹ سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
مختصر حج پروگرام (شارٹ حج) تیز رفتار اور مصروف افراد کا انتخاب
دوسری جانب، 41 ہزار 467 حاجیوں نے مختصر حج پروگرام کا انتخاب کیا، جو کل کا 34.8 فیصد ہے۔ ان حاجیوں نے فی کس 12 لاکھ روپے ادا کیے۔ مختصر پروگرام کی مدت 20 سے 22 روز رکھی گئی تھی، جو ان افراد کے لیے زیادہ مناسب ثابت ہوئی جو پیشہ ورانہ مصروفیات یا دیگر وجوہات کی بنا پر زیادہ دن سعودی عرب میں نہیں گزار سکتے تھے۔
اگرچہ مختصر پروگرام کی فی کس لاگت طویل پروگرام سے 50 ہزار روپے زیادہ ہے، لیکن اس کے باوجود یہ پروگرام بھی کافی مقبول رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مختصر قیام کے دوران بھی تمام مناسک حج مکمل طور پر ادا کرائے گئے اور حاجیوں کو جدید سہولیات فراہم کی گئیں۔ وزارت مذہبی امور کے مطابق مختصر پروگرام میں فضائی سفر، سعودی عرب میں تیز رفتار ٹرانسپورٹ اور خصوصی رہائشی انتظامات شامل تھے، جس سے لاگت میں معمولی اضافہ ہوا۔
خواتین حاجیوں کی ریکارڈ تعداد
اس سال سرکاری حج اسکیم میں خواتین کی شرکت بھی قابل ذکر رہی۔ رپورٹ کے مطابق کل 50 ہزار 114 خواتین نے فریضہ حج ادا کیا، جو سرکاری حج کوٹے کا 43.5 فیصد بنتا ہے۔ پچھلے سالوں کے مقابلے میں یہ تناسب بڑھا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کو حج کی سہولیات فراہم کرنے میں بہتری آئی ہے۔
سرکاری سطح پر خواتین حاجیوں کے لیے محرم (مرد سرپرست) کے بغیر حج کی اجازت دینے اور خواتین کے لیے خصوصی رہائشی احاطے، الگ بسیں اور طبی ٹیمیں ترتیب دینے سے ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ تربیتی ورکشاپس اور آن لائن رہنمائی سیشنز نے بھی خواتین کو حج کے لیے بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
مجموعی اخراجات کا جائزہ
سرکاری حج اسکیم پر رواں برس کل 139 ارب 16 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ اگر فی حاجی اوسط لاگت نکالی جائے تو یہ تقریباً 11 لاکھ 67 ہزار روپے بنتی ہے۔ طویل پروگرام والوں نے 11.5 لاکھ جبکہ مختصر والوں نے 12 لاکھ روپے ادا کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختصر قیام کے باوجود اس کی لاگت زیادہ رہی — اس کی بڑی وجہ مختصر مدت میں زیادہ تیز رفتار خدمات اور فضائی کرایوں میں اضافہ ہے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق 139 ارب روپے کا یہ اخراجات پاکستان کی معیشت پر بڑا بوجھ ہیں، لیکن چونکہ یہ زرمبادلہ سعودی عرب کو منتقل ہوتا ہے، اس کے بدلے پاکستانی حاجیوں کو اعلیٰ سہولیات اور روحانی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ وزارت مذہبی امور نے بتایا کہ اس لاگت میں حاجیوں کے ایئر ٹکٹ، رہائش، خوراک، قربانی کے انتظامات، اندرون سعودیہ ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات کے تمام اخراجات شامل تھے۔
سرکاری حج اسکیم کی کارکردگی اور انتظامات
وزارت مذہبی امور کے مطابق رواں برس پہلی بار حج انتظامات میں مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید موبائل ایپلی کیشنز کا استعمال کیا گیا تاکہ حاجیوں کو حقیقی وقت میں رہنمائی مل سکے۔ حاجیوں کو مناسک حج سے متعلق روزانہ پیغامات، موسم کی اطلاعات، گمشدہ افراد کی تلاش اور ہنگامی طبی امداد کی سہولیات فراہم کی گئیں۔
مزید برآں، مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں پاکستانی حاجیوں کے لیے خصوصی طبی مراکز قائم کیے گئے جن میں 300 سے زائد ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف نے خدمات انجام دیں۔ ڈیڑھ سو سے زائد ہسپتالوں اور کلینکس کے ساتھ رابطہ قائم رکھا گیا۔
موازنہ: طویل بمقابلہ مختصر پروگرام
طویل اور مختصر پروگرام کے درمیان فیصلہ کرتے وقت حاجیوں کو درج ذیل عوامل پر غور کرنا چاہیے:
· لاگت: مختصر پروگرام 50 ہزار روپے مہنگا ہے۔
· مدت: طویل میں 40-45 دن، مختصر میں 20-22 دن۔
· سہولیات: مختصر میں زیادہ تیز رفتار خدمات (تیز ٹرانسپورٹ، پریمیم ہوٹل)، طویل میں آرام اور عبادت کا زیادہ وقت۔
· جسمانی صلاحیت: کمزور یا معمر افراد کے لیے طویل بہتر ہے جبکہ جوان اور صحت مند افراد مختصر بھی کر سکتے ہیں۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 65 فیصد نے طویل کو ترجیح دی، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ عوام زیادہ دن قیام اور سکون کو ترجیح دیتے ہیں، چاہے اس کے لیے کچھ کم اخراجات برداشت کرنا پڑیں۔
خلاصہ
سرکاری حج اسکیم 2026 نے پاکستانی عوام کو ایک بار پھر پرامن اور منظم طریقے سے فریضہ حج ادا کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ایک لاکھ 19 ہزار 210 حاجیوں میں سے 65.2 فیصد نے طویل جبکہ 34.8 فیصد نے مختصر پروگرام کا انتخاب کیا۔ خواتین کی تعداد 50 ہزار 114 (43.5 فیصد) رہی۔ مجموعی لاگت 139 ارب 16 کروڑ روپے تھی۔
کلیدی اعداد و شمار ایک نظر میں:
تفصیل تعداد / شرح
کل حاجی (سرکاری) 119,210
طویل پروگرام (40-45 دن) 77,743 (65.2%)
مختصر پروگرام (20-22 دن) 41,467 (34.8%)
طویل پروگرام فی کس لاگت 11,50,000 روپے
مختصر پروگرام فی کس لاگت 12,00,000 روپے
کل اخراجات 139.16 ارب روپے
خواتین حاجی 50,114 (43.5%)
سال 2026
یہ رپورٹ ویب سائٹ کی اشاعت کے لیے تیار کی گئی ہے۔ تمام اعداد و شمار وزارت مذہبی امور اور خبر ایجنسی کی رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔








































