تحریر تجزیاتی رپورٹ: ٹیم خبر ایجنسی
مشرق وسطیٰ اس وقت تاریخ کے خطرناک ترین دوراہے پر کھڑا ہے ایرانی پارلیمنٹ کے پہلے ڈپٹی اسپیکر علی نیکزاد کے حالیہ بیان نے عالمی سیاست اور معیشت کے ایوانوں میں ایک زلزلہ برپا کر دیا ہے اتوار کے روز تہران سے جاری ہونے والے اس چونکا دینے والے اعلان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عالمی معیشت کی شہ رگ یعنی آبنائے ہرمز Strait of Hormuz کو بند کر دیا گیا ہے اور اگر حالات مزید بگڑے تو یمن کے قریب واقع دوسری اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے باب المندب Bab al Mandab کو بھی بند کیا جا سکتا ہے
یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ عالمی نظام کو کھلا چیلنج ہے جس نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو ایک ایسے نقطے پر پہنچا دیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ انتہائی کٹھن دکھائی دیتا ہے
آبنائے ہرمز ایران کا ایٹم بم اور اسٹریٹجک ہتھیار
ڈپٹی اسپیکر علی نیکزاد نے اپنے بیان میں جو سب سے سخت استعارہ استعمال کیا وہ آبنائے ہرمز کو ایران کا ایٹم بم قرار دینا تھا ان کا کہنا تھا کہ یہ آبی گزرگاہ ایران کے لیے کسی بھی جوہری ہتھیار سے زیادہ موثر اور تزویراتی Strategic اہمیت کی حامل ہے اس بیان کے پیچھے چھپی تہران کی سوچ بالکل واضح ہے ایران اپنے جغرافیائی محل وقوع کو دنیا کے خلاف ایک ناقابل شکست ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے
نیکزاد نے واشنگٹن کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا
امر کرنے حکم چلانے کا دور اب ختم ہو چکا ہے آبنائے ہرمز کو اب کسی فوجی کارروائی کے ذریعے دوبارہ نہیں کھولا جا سکے گا
اس سخت موقف سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر جارحانہ حکمت عملی اختیار کر چکا ہے جہاں وہ عالمی قوانین کے بجائے اپنی شرائط پر گیم کھیلنے کے لیے تیار ہے
عالمی معیشت پر بندش کے تباہ کن اثرات
آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم ترین گزرگاہ ہے جہاں سے روزانہ عالمی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد سے زیادہ خام تیل گزرتا ہے اس کی بندش کے اثرات محض مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کا جھٹکا پوری دنیا کو لگے گا
1 توانائی کا بحران اور پٹرولیم کی قیمتیں
موجودہ تعطل کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی میں شدید رکاوٹ پیدا ہو چکی ہے معاشی ماہرین کا متبادل اندازہ ہے کہ اگر یہ بندش چند ہفتے برقرار رہی تو خام تیل کی قیمتیں 100 سے 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں اس کا براہ راست نتیجہ دنیا بھر میں مہنگائی کے ایک نئے طوفان کی صورت میں نکلے گا جس سے ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو سکتی ہیں
2 عالمی سپلائی چین کی تباہی
تیل کے علاوہ اس راستے سے مائع قدرتی گیس LNG اور اربوں ڈالر کی تجارتی اشیاء گزرتی ہیں بحری ٹریفک کی اس معطلی نے بین الاقوامی سپلائی چین کو مفلوج کر دیا ہے جس سے صنعتی پیداوار اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے
3 عسکری محاذ آرائی
اسپیکر کے بیان کی تصدیق زمینی حالات سے بھی ہوتی ہے آبنائے ہرمز کے ارد گرد کے پانیوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست عسکری جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں حالیہ دنوں میں دونوں اطراف سے جدید ڈرون گرائے گئے ہیں اور بحری جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کے واقعات نے خطے کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے
واشنگٹن اور تہران کا ٹکراؤ عالمی ردعمل
اس سنگین صورتحال پر عالمی برادری شدید تشویش میں مبتلا ہے اور مختلف طاقتوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے
امریکہ کی دھمکی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے نہ کھولا گیا تو امریکہ ایران کی اندرونی شہری اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا
ایران کا جواب ایران نے بھی اس امریکی دھمکی کا جواب اسی لہجے میں دیا ہے تہران کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی شہری تنصیبات پر ایک بھی حملہ ہوا تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ ہولناک اور وسیع ہوگا
متحدہ عرب امارات کا موقف علاقائی سطح پر خلیجی ممالک میں بھی شدید بے چینی ہے متحدہ عرب امارات UAE نے ایرانی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ بین الاقوامی آبی راستہ کبھی بھی ایران کی ذاتی ملکیت نہیں رہا کہ وہ جب چاہے اسے بند کرنے کا فیصلہ کرے امارات کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ خلیجی ممالک اس بندش کو اپنی معاشی بقا کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں
آبنائے باب المندب جنگ کا نیا اور ہولناک محاذ
بات صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہی ایران نے اب امریکہ کو دباؤ میں لانے کے لیے ایک نیا کارڈ کھیلا ہے اور وہ ہے آبنائے باب المندب کی بندش کی دھمکی ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے کسی بھی قسم کی زمینی فوجی کارروائی کی تو وہ بحیرہ احمر میں ایک نیا عسکری محاذ کھول دے گا
باب المندب کی جیو پولیٹیکل اہمیت
یہ آبنائے کیوں اتنی اہم ہے اس کو سمجھنے کے لیے درج ذیل نکات اہم ہیں
خصوصیت تفصیل
جغرافیائی محل وقوع یہ بحیرہ احمر Red Sea کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے اور نہر سویز Suez Canal تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے
طول و عرض اس کی لمبائی تقریباً 115 کلومیٹر اور چوڑائی محض 36 کلومیٹر ہے جس کی وجہ سے اسے بلاک کرنا آسان ہے
تجارتی اثر ایشیا اور یورپ کے درمیان ہونے والی تمام سمندری تجارت اسی راستے پر منحصر ہے اگر یہ بند ہوتی ہے تو جہازوں کو پورے افریقہ کا چکر لگا کر جانا پڑے گا جس سے سفری لاگت اور وقت دوگنا ہو جائے گا
ایران نواز حوثی گروپ کی یمن میں موجودگی کی وجہ سے ایران کے لیے باب المندب میں اثر و رسوخ استعمال کرنا انتہائی آسان ہے اور یہ دھمکی عالمی تجارتی نظام کو مفلوج کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے
نتیجہ اور مستقبل کا منظرنامہ
ایران کی جانب سے ایک ہی وقت میں دو اہم ترین بحری گزرگاہوں کو نشانہ بنانا یا بند کرنے کی دھمکی دینا جدید تاریخ کا سب سے بڑا جیوپولیٹیکل جوا ہے اس صورتحال نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو متحرک تو کر دیا ہے لیکن ابھی تک کوئی بھی سفارتی حل میز پر نظر نہیں آ رہا
اگر یہ کشیدگی کم نہ ہوئی تو دنیا کو ایک ایسے معاشی اور عسکری بحران کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی مثال گزشتہ کئی دہائیوں میں نہیں ملتی کیا امریکہ اور اس کے اتحادی فوجی طاقت کے ذریعے ان راستوں کو کھلوانے کی کوشش کریں گے یا ایران اپنے پتے اتنی مہارت سے کھیلے گا کہ دنیا کو اس کی شرائط ماننا پڑیں گی یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات آنے والے چند دن طے کریں گے لیکن ایک بات طے ہے مشرق وسطیٰ کا یہ سمندر اس وقت بارود کی بو سے مہک رہا ہے اور ایک چھوٹی سی چنگاری بھی عالمی جنگ کی آگ بھڑکا سکتی ہے(خبرایجنسی)
نوٹ یہ بحران تیزی سے بدل رہا ہے لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال اور تازہ ترین پیش رفت کے لیے جڑے رہیں خبر ایجنسی کے ساتھ ۔



































