بیورو چیف: (خبر ایجنسی07/06/2026)
ایران امریکہ مذاکرات، ایران مستقل حل کا متلاشی جبکہ صدر ٹرمپ مذاکرات کی آڑ میں کسی اور حل کی تلاش میں ہیں۔ مذاکرات اور حل کا بنیادی فرق اتنا، مذاکرات دو فریقوں کے درمیان بنیادی مراعات کا تبادلہ جبکہ حل نے تنازع کو جڑ سے اکھاڑنا ہے۔ایران کا مسئلہ یورینیم کی افزودگی پر پابندیوں یا جوہری معائنوں کے موثر نظام تک محدود نہیں، وہ 47 سالوں سے جاری طویل مدتی حکمت عملی اور نظریاتی تصادم کو ختم کرنا مستقل حل سمجھتا ہے۔ ایران کو کسی عارضی معاہدے کی بجائے اپنے سلامتی کے خدشات، خودمختاری، جغرافیائی اور علاقائی حیثیت کو تسلیم کروانا ہے۔ ایران کے نزدیک جوہری مسئلہ تو ایران کی نظریاتی شناخت کو ختم کرنے کی کوششوں کے ردعمل میں سامنے آیا۔ ویسے بھی ایران کے سپریم لیڈر کا فتویٰ سن 1999 میں آیا کہ ایٹمی ہتھیار بنانا، استعمال کرنا، بے گناہ شہریوں کا قتل عام کرنا، صریحاً غیراسلامی ہے۔ فتویٰ باقاعدہ ایرانی قوانین کا حصہ ہے۔ 20 مارچ سن 2003 میں جھوٹا بیانیہ بنایا کہ عراق وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیار بنا رہا ہے، امریکہ نے جب عراق پر قبضہ کیا تو ایران کو خدشہ تھا کہ امریکہ اس پر حملہ کرے گا۔بعد ازاں جب امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک کی سن 2005 میں کتاب منظرعام پر آئی جس میں پینٹاگون کا ایک یادداشت نامہ بطور حوالہ موجود کہ گیارہ ستمبر کے سانحے کے چند ہفتوں بعد ہی طے ہو گیا تھا کہ اگلے پانچ سالوں میں سات ممالک عراق، شام، لیبیا، لبنان، صومالیہ، سوڈان اور ایران کو غیرموثر ریاستیں بنا دیا جائے گا۔ سارے ممالک بھینٹ چڑھ گئے، اب ایران بچا تھا۔28 فروری سن 2026 کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر یلغار کی تو چند دنوں بعد ہی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا بڑے جرات سے بیان نشر ہوا کہ میں پچھلے 40 سالوں سے اس دن کے انتظار میں تھا۔ چنانچہ 28 فروری کا حملہ عملاً ایران میں اسلامی حکومت کا صفایا تھا، وینزویلا، شام، عراق وغیرہ کی طرز پر اپنی مرضی کا حکمران مسلط کرنا تھا۔ 11 فروری سن 2026، وائٹ ہاؤس کے بحرانی کمرے میں جب ایران کے خلاف جنگ کی منصوبہ بندی اور حملے کے خدوخال نکھارے جا رہے تھے تو قطع نظر کہ مسلح افواج کمیٹی کے سربراہ جنرل کین، مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر ریٹ کلف سمیت سارے جرنیلوں نے ایران پر حملے کی مخالفت کی اور بتایا کہ حملے سے شایانِ شان نتائج نہیں ملیں گے اور دلدل میں پھنس جائیں گے مگر بحرانی کمرے میں موجود جنگی مجرم نیتن یاہو نے مال بیچا کہ چند گھنٹوں کے آپریشن میں ایران امریکہ کے قدموں میں ہوگا۔اس سے اندازہ لگائیں کہ کس قابلیت اور سمجھ کے لوگ ایران پر حملے کی حکمت عملی میں موجود تھے۔ ویسے بھی مارکو روبیو اور اسٹیو وٹکاف کی نالائقی کا پوری دنیا میں طوطی بولتا ہے، مگر صدر ٹرمپ کو خوشامدیوں کا ٹولہ چاہیے۔ بقول ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، ’’ایران بھی اس حملے کا تقریباً 26 سالسے منتظر تھا اور پوری تیاری میں تھا‘‘، وقت نے ثابت کیا کہ ایران کی تیاری جیت گئی۔ ایسے وقت جب ایران کی ساری قیادت گھائل ہو چکی تھی مگر استقامت، عزم، حکمت نے، جو مومن کی میراث، چند گھنٹوں میں آبنائے ہرمز بند کرکے امریکہ سمیت ساری دنیا کو چونکا دیا۔ ٹرمپ/نیتن یاہو منصوبہ بندی چند گھنٹوں میں مٹی چاٹ رہی تھی، ایران میں 28 فروری سے پہلے سے زیادہ مضبوط اور مستحکم حکومت وجود میں آ گئی۔ تب سے صدر ٹرمپ ہر دھمکی، ہر سفارتی مفاہمتی راستہ استعمال کر چکے ہیں، مگر ایران کو کسی چیز سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ایران 27 فروری کی نسبت آج زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔47 سال (سن 1979) سے ایران کو تکلیف اور اذیت سے دو چار کر رکھا تھا۔ ایران سے جو مطالبات آج کیے جا رہے ہیں، 11 فروری سن 1979 کو جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو ان میں سے کسی مسئلے کا کوئی وجود نہیں تھا۔ البتہ اسلامی حکومت قائم ہوتے ہی یاسر عرفات (اگست سن 1979) کو تہران بلا کر اسرائیلی سفارت خانے میں فلسطین تحریک آزادی کا مشن قائم کر دیا، ساتھ ہی ہر رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا۔ یورینیم کی افزودگی کا مسئلہ سن 2005 میں پیدا ہوا جب ایران نے شہری استعمال کے لیے افزودگی شروع کی۔ حزب اللہ، حماس اور حوثی کا وجود بالترتیب سن 1983، سن 1987 اور سن 2002 میں آیا۔ اسرائیل نے سن 1983 میں جنوبی لبنان پر حملہ کیا اور بیروت پر قبضہ کیا تو حزب اللہ وجود میں آئی، سن 1986 میں پہلی انتفادہ تحریک چلی اس لیے کہ اسلامی ممالک کی حکومتوں نے فلسطین کو اکیلا چھوڑا اور ایسے وقت فلسطین تحریک آزادی نے بھی دو ریاستی حل میں عافیت ڈھونڈنے کی کوشش کی تو فلسطینی عوام نے تحریک اپنے ہاتھ میں لے لی۔ جب امریکہ نے لبنان کی بائیں بازو کی حکومت ختم کرنے کی کوشش کی تو پہلے زیدی شیعہ احیائی تحریک “الشاب المومن” شروع ہوئی جو سن 2004 میں عسکری ہوگئی۔ یمنی حکومت نے جب ظلم اور زیادتی کی انتہا کر دی تو سن 2015 میں حوثی تخلیق ہوئے جو آج آبنائے مندیب کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ ایران نے نہ حزب اللہ، نہ حماس اور نہ حوثیوں کو تخلیق کیا۔ جبکہ حماس خالصتاً سنی مسلمان بلکہ اخوان المسلمین کی شاخ تھے۔ ایران نے تو امام خمینی کا سن 1979 کا فتویٰ کہ فلسطین کو آزاد کروانا اور مظلوم مسلمانوں کا ساتھ دینا، اسلامی فریضہ جانا۔ حزب اللہ، حماس اور حوثی تو الٹا ایران کے دست و بازو بنے جو اللہ کی طرف سے تحفہ ملا۔جوہری معاہدہ (مشترکہ جامع منصوبہ عمل) تو ایران نے سن 2016 میں امریکی صدر اوباما اور پانچ بڑے ممالک کے ساتھ دستخط کر دیا تھا، جس میں ایران افزودگی تین فیصد تک محدود کرنے پر رضا مند ہو گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے کہنے پر سن 2018 میں یہ معاہدہ توڑ دیا، آج آبنائے ہرمز کھلوانا سب سے بڑا مسئلہ جبکہ پوری دنیا ایک بہت بڑے معاشی بحران سے دو چار ہے۔ 27 فروری کو آبنائے ہرمز تو کھلی تھی۔ اب ایران کو نہ تو جنگ بندی میں دلچسپی ہے اور نہ کسی مذاکرات میں، انھیں صرف اور صرف مسئلے کو حل کرنا ہے۔28 فروری سے پہلے پابندیوں اور مختلف تادیبی کارروائیوں کی وجہ سے ایران کو 800 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ 28 فروری سے اب تک جنگی تباہی سے ایران کا تقریباً 50 ارب ڈالر کا مزید نقصان ہو چکا۔ ایران اگر فی بیرل تیل پر 2 ڈالر ٹیکس لگائے تو بمشکل 12 ارب ڈالر سالانہ کمائے گا۔اس وقت ایران کے چار مطالبات: جنگی نقصان پورا کیا جائے، معاشی پابندیاں مکمل طور پر ہٹائی جائیں، منجمد اثاثے فوری طور پر واپس کئے جائیں، امریکی فوجیں خطے سے بتدریج نکل جائیں اور خطے کو زیرِ تسلط رکھنے کی بجائے خطے کے ممالک کی سلامتی، آزادی اور خودمختاری کا احترام کیا جائے۔ وقتی طور پر جنگ بندی کو مستقل بنانے کے لیے پابندیوں کا خاتمہ، اثاثوں کی بحالی، ناکہ بندی کا خاتمہ، اور غزہ، لبنان سے اسرائیلی فوج کا انخلا ایران کا فوری مطالبہ ہے۔چند گھنٹے پہلے امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو آگاہ کیا ہے کہ ’’امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرے گا، اگر ایران نے امریکی فوجیوں کو نشانہ نہ بنایا‘‘۔ ٹرمپ انتظامیہ سفارتی حل کو ترجیح دے رہی ہے اور جنگ کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے خواہاں نہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں چند گھنٹے کے اندر معاہدے کی خوشخبری سنائی ہے۔ اگرچہ جنگ عملاً بند ہے، ایران فاتح ضرور ہے مگر ایران مستقل حل اور امن کا خواہاں ہے جبکہ امریکہ متبادل حل کا متلاشی۔(خبر ایجنسی)








































