واشنگٹن/تل ابیب/تہران: ٹرمپ کا دعویٰ، حزب اللہ سے رابطے اور لبنان میں جنگ بندی کا اتفاق، ایران نے مذاکرات روک دیے
واشنگٹن (خبر ایجنسی) 04/06/2026 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جسے انہوں نے “انتہائی مفید” قرار دیا۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کا لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ سے بھی اعلیٰ سطح پر رابطہ ہوا، جس کے نتیجے میں جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔ٹرمپ کے مطابق، اس مفاہمت کے تحت اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیروت کی جانب جانے والے کسی بھی فوجی دستے کو روک دیا گیا ہے اور جو دستے راستے میں تھے، انہیں واپس بلا لیا گیا ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ یہ دستے کس ملک کے تھے یا انہیں کس اتھارٹی نے روانہ کیا تھا۔ٹرمپ کے ان دعوؤں کے فوری بعد ایرانی خبر ایجنسی نے خبر دی کہ ایران نے لبنان پر بڑھتے ہوئے اسرائیلی حملوں کے پیشِ نظر امریکہ کے ساتھ بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ روک دیا ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق، ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بند نہیں ہوتیں اور تہران کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، اس وقت تک کسی بھی قسم کے سفارتی پیغامات کا سلسلہ بحال نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب، ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے انہیں پیغامات روکنے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا۔ انہوں نے اسے کوئی بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت کا انتظار کریں گے جب ایران امریکہ کی منظور کردہ شرائط پر ڈیل کرنے کے لیے تیار ہوگا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ بالآخر ایران مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا۔ٹرمپ کے دعوؤں پر ردعمل سامنے نہیں آیاواضح رہے کہ حزب اللہ کو امریکہ اور اسرائیل دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے حزب اللہ سے براہِ راست یا بالواسطہ رابطہ کیا اور جنگ بندی طے کی، سفارتی حلقوں میں حیرت کا باعث بنا ہے۔ تاہم اب تک نہ تو اسرائیل، نہ حزب اللہ اور نہ ہی لبنانی حکومت نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تصدیق یا تردید کی ہے۔اسرائیلی میڈیا نے خبر دی ہے کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور شہریوں کی واپسی کے معاملات زیرِ بحث آئے، لیکن نیتن یاہو کی جانب سے جنگ بندی کے کسی معاہدے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اسرائیلی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں گے، جب تک شمالی اسرائیل کے مکین محفوظ واپس نہیں آجاتے۔ایران کا سخت مؤقف ایران نے گزشتہ ہفتوں میں متعدد بار کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ غزہ اور لبنان پر حملے فوری طور پر بند کیے جائیں۔ متعلقہ خبر ایجنسی کے مطابق، ایرانی مذاکراتی ٹیم نے امریکہ کو پیغام بھجوایا ہے کہ اسرائیلی فوجی مشینری کو روکے بغیر کوئی بھی پیش رفت ممکن نہیں۔ایران نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ واقعی خطے میں کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے تو اسے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ہوگا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ کا جنگ بندی کا دعویٰ محض انتخابی مہم کا حصہ ہے، کیونکہ امریکہ میں صدارتی انتخابات قریب ہیں اور ٹرمپ اپنی خارجہ پالیسی کو کامیاب دکھانا چاہتے ہیں۔حزب اللہ خاموش، لبنانی حکومت پریشان لبنان کی عبوری حکومت نے ابھی تک ٹرمپ کے بیان پر کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا، لیکن ذرائع کے مطابق بیروت میں تشویش پائی جاتی ہے کہ اس طرح کے اعلانات حقیقت کے بجائے پروپیگنڈے پر مبنی ہو سکتے ہیں۔ حزب اللہ کے ایک ترجمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک عرب میڈیا ادارے کو بتایا کہ انہیں امریکی صدر کے کسی رابطے کا علم نہیں، البتہ کسی بھی جنگ بندی کا دارومدار عملی اقدامات پر ہے، نہ کہ محض بیانات پر۔سابق سفارت کاروں کی رائےامریکی محکمہ خارجہ کے ایک سابق عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹرمپ کی جانب سے حزب اللہ سے “اچھے رابطے” کا ذکر غیر معمولی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “امریکہ حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے، اس لیے کسی بھی امریکی حکام کا اس سے براہِ راست رابطہ قانوناً ممنوع ہے۔ اگر یہ رابطہ کسی تیسرے ملک یا ثالث کے ذریعے ہوا، تو پھر بھی اسے جنگ بندی کا معاہدہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔”ماہرین کے مطابق، موجودہ صورتحال میں ٹرمپ کے بیان کو سفارتی کامیابی کے بجائے سیاسی بیان بازی سمجھا جانا چاہیے، جب تک کہ اس کی عملی شکل سامنے نہ آئے۔ (خبر ایجنسی)








































