اسلام آباد (خبر ایجنسی):یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ، کایا کالاس نے کہا ہے کہ پاکستان خطے کی بڑی طاقت اور یورپی یونین کا اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ انہوں نے ایران-امریکہ تنازع میں ثالثی کے لیے پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اس کردار کو ‘انتہائی قابلِ ستائش’ قرار دیا۔
اسٹریٹجک مذاکرات میں اعلیٰ سطحی بیانات، کالاس نے یہ بیان اسلام آباد میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے 8ویں اسٹریٹجک مذاکرات کے موقع پر مشترکہ پریس کانفرنس میں دیا۔ اس موقع پر نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ تھے۔ کالاس نے کہا کہ پاکستان نہ صرف خطے میں استحکام کا اہم عنصر ہے بلکہ عالمی سطح پر یورپی یونین کے لیے ایک اہم پارٹنر بھی ہے۔ایران-امریکہ تنازع اور توانائی کا بحران یورپی سفارتکار کی سربراہ نے واضح کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے پوری دنیا کو توانائی کے شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا:“موجودہ عالمی حالات میں مستقل جنگ بندی اور مذاکرات کا تسلسل ناگزیر ہے۔ ایسے میں پاکستان کا ثالثی کردار قابل تحسین ہے۔”ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خطے میں سفارتی راہیں کھول کر ایک اہم ذمہ داری نبھائی ہے۔
پاک بھارت کشیدگی پر موقف کایا کالاس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو بھی سنگین قرار دیا۔ ان کے مطابق:“پاک بھارت کشیدگی کے سنگین نتائج برآمد ہوئے، جو صورتِ حال کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جا سکتی تھی۔ یورپی یونین نے ہمیشہ دونوں ممالک پر تحمل اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے۔”انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ یورپی یونین خطے میں امن کے لیے ہر ممکن سفارتی تعاون جاری رکھے گا۔
پاکستان کا دفاعی حق، کالاس نے بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان کے دفاعی حق کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا:“پاکستان کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے اور اپنے عوام کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔”یہ بیان ایسے وقت میں اہم سمجھا جا رہا ہے جب علاقائی سیکیورٹی چیلنجز عروج پر ہیں۔مستقبل کا ہدف: 2026اپنے دورے کے مقاصد کے بارے میں بات کرتے ہوئے یورپی سفارتکار نے کہا:“2026ء کا اصل ہدف پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط اور مستقبل پر مبنی بنانا ہے۔ ہم پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے منتظر ہیں۔”انہوں نے دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری، اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔اعلیٰ سطحی ملاقاتیں واضح رہے کہ کایا کالاس اپنے دورہ پاکستان کے دوران صدر آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف، اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کریں گی۔ ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون، اور افغانستان کی صورتِ حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
تجزیہ ماہرین کے مطابق کایا کالاس کا یہ دورہ اور بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یورپی یونین مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں نئے سفارتی توازن کی تلاش میں ہے۔ پاکستان کو ‘خطے کی بڑی طاقت’ تسلیم کرنا برسلز کی پالیسی میں ایک واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے — جو نہ صرف جغرافیائی سیاسی لحاظ سے اہم ہے بلکہ توانائی کی سلامتی اور ثالثی کے کردار کے پیش نظر بھی انتہائی کلیدی ہے۔ خصوصی رپورٹ: (خبر ایجنسی) 02/06/2026








































