تہران: خبر ایجنسی
اسلامی جمہوریہ ایران(خبر ایجنسی )نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے مابین اپنی بحری دفاعی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس فاسٹ اٹیک کشتی 27رجب متعارف کرا دی ہے جس کے بعد خطے میں عسکری توازن اور غیر متناسب جنگی حکمت عملی کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے ایرانی میڈیا کے مطابق اس انتہائی تیز رفتار حملہ آور کشتی کو تہران کے مرکزی چوک انقلاب اسکوائر میں منعقدہ ایک پروقار عوامی تقریب کے دوران پاسداران انقلاب کی بحریہ کی جانب سے باضابطہ طور پر نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے عسکری ماہرین اس نئی دفاعی پیش رفت کو خطے میں امریکی اثر و رسوخ اور بحری ضوابط کے خلاف تہران کا ایک سخت اور واضح تزویراتی ردعمل قرار دے رہے ہیں
دفاعی ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس نومتعارف عسکری جہاز کو ایک خاص بحری ڈیزائن ٹرائی ماران ہل پر تیار کیا گیا ہے جو اسے بپھرے ہوئے سمندر اور انتہائی ناموافق موسمی حالات میں بھی غیر معمولی استحکام اور تیز چالبازی کی صلاحیت فراہم کرتا ہے یہ جدید ڈیزائن کشتی کو سمندر میں اٹھنے والی تین میٹر بلند لہروں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف پیش قدمی جاری رکھنے کے قابل بناتا ہے جو عام طور پر چھوٹی عسکری کشتیوں کے لیے انتہائی مشکل تصور کیا جاتا ہے
اس فاسٹ اٹیک کرافٹ کی سب سے اہم اور خطرناک خصوصیت اس کی ناقابل یقین رفتار اور مہلک فائر پاور ہے یہ کشتی سمندر کی سطح پر 100 ناٹس یعنی لگ بھگ 185 کلومیٹر فی گھنٹہ کی طوفانی رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ اس تیز رفتاری کے ساتھ ساتھ یہ اپنے ساتھ دو ایسے جدید کروز میزائل لے جانے اور انہیں فائر کرنے سے بھی لیس ہے جن کی مار کرنے کی حد 700 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے اس پورے ڈیزائن اور جنگی ہتھیاروں کا بنیادی مقصد دشمن کے بڑے اور بھاری بحری جہازوں کو مچھر بیڑے یعنی موسکیٹو فلیٹ کی مخصوص عسکری حکمت عملی کے تحت نشانہ بنانا ہے جس میں متعدد چھوٹی اور انتہائی تیز رفتار کشتیاں بیک وقت یکجا ہو کر دشمن کے بڑے جنگی جہازوں پر ہر طرف سے اچانک اور ہم آہنگ حملے کرتی ہیں تاکہ ان کے دفاعی نظام کو مفلوج کیا جا سکے
یہ جدید ترین عسکری ہتھیار ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے لایا گیا ہے جب خلیج فارس اور بالخصوص آبنائے ہرمز کے تزویراتی آبی راستے میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے امریکہ کی جانب سے خطے میں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے نئے ضوابط کے نفاذ اور ماضی قریب میں ایرانی کشتیوں پر ہونے والے حملوں کے بعد تہران کی جانب سے اس جدید بیڑے کی رونمائی انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے بین الاقوامی مبصرین اس اقدام کو ایران کی طرف سے اپنے حریفوں کے لیے ایک واضح اور کھلا پیغام قرار دے رہے ہیں کہ وہ اپنی بحری حدود کے دفاع اور کسی بھی قسم کے علاقائی چیلنج یا مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت اور وسائل رکھتا ہے
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ ملک کی روایتی بحریہ سے الگ اور خود مختار طریقے سے فرائض سرانجام دیتی ہے جس کے سپرد خلیج فارس اور تزویراتی لحاظ سے انتہائی حساس آبنائے ہرمز کی حفاظت اور سیکیورٹی کی بنیادی ذمہ داری ہے پاسداران انقلاب کی بحری فورس بڑے جنگی جہازوں کے بجائے بڑے پیمانے پر چھوٹی تیز رفتار اور جدید گائیڈڈ میزائلوں سے لیس کشتیوں کے بیڑے پر انحصار کرتی ہے جو خلیج کے پانیوں میں ایران کی غیر متناسب جنگی حکمت عملی کا سب سے اہم اور موثر ہتھیار سمجھی جاتی ہیں(خبر ایجنسی)








































