خصوصی رپورٹ خبر ایجنسی:05/31/2026
پنجاب کے شہریوں کے لیے نئی حلقہ بندیوں پر اعتراضات کا طریقہ کار اور شیڈول جاری بنیادی معلومات:الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے پنجاب میں یونین کونسلوں کی نئی حلقہ بندیوں (Delimitation) کا باضابطہ شیڈول عوام کے سامنے رکھ دیا ہے۔ شہریوں، امیدواروں، سیاسی جماعتوں اور علاقے کے باشندوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اگر اپنی یونین کونسل یا وارڈ کی حلقہ بندی پر کوئی اعتراض رکھتے ہیں تو مقررہ طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے اعتراض داخل کر سکتے ہیں۔—📅 اہم تاریخیں (شیڈول)نمبر مرحلہ تاریخ1 اعتراضات جمع کروانے کی مدت کا آغاز 26 مئی 2026ء2 اعتراضات جمع کروانے کی آخری تاریخ 23 جون 2026ء3 اعتراضات پر فیصلوں کی آخری تاریخ 22 جولائی 2026ء4 کمیٹیوں کو حتمی فیصلے بھیجنے کی تاریخ 4 اگست 2026ء5 نئی حلقہ بندیوں کی فائنل لسٹ کی اشاعت 10 اگست 2026ء کن باتوں پر اعتراض اٹھایا جا سکتا ہے؟الیکشن کمیشن کے مطابق، درج ذیل بنیادوں پر اعتراض قابلِ سماعت ہو گا:1. یونین کونسل کی حدود — اگر حدود غلط یا غیر واضح طور پر بنائی گئی ہوں۔2. آبادی کا عدم توازن — کسی ایک یونین کونسل میں آبادی بہت زیادہ اور کسی میں بہت کم ہو۔3. علاقے کی غلط شمولیت — آپ کا محلہ یا گاؤں غلطی سے کسی دوسری یونین کونسل میں شامل کر دیا گیا ہو۔4. وارڈ یا یونین کونسل کی غیر منصفانہ تقسیم — تقسیم کے اصولوں کے خلاف ہو۔—📝 اعتراض جمع کروانے کا طریقہ کار (چار مراحل)مرحلہ اول:اپنے متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر یا حلقہ بندی اتھارٹی (Delimitation Authority) کے دفتر میں تحریری درخواست دیں۔مرحلہ دوم:درخواست میں درج ذیل چیزیں واضح طور پر لکھیں:· یونین کونسل یا وارڈ کا نمبر· مسئلے کی مکمل تفصیل· مطلوبہ تبدیلی (جو آپ چاہتے ہیں کہ کی جائے)مرحلہ سوم:درخواست کے ساتھ لازمی منسلک کریں:· اپنا شناختی کارڈ (CNIC)· متعلقہ ثبوت (مثلاً علاقے کا نقشہ، آبادی کا ریکارڈ، یا کوئی دستاویزی ثبوت)مرحلہ چہارم:الیکشن کمیشن آپ کو متبادل تاریخ پر سماعت (Hearing) کے لیے بلائے گا، جہاں آپ اپنا مؤقف پیش کر سکیں گے۔ اس کے بعد کمیشن اعتراض پر فیصلہ صادر کرے گا۔—⚠️ اہم نوٹ (بزریعہ الیکشن کمیشن آف پاکستان)الیکشن کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ حلقہ بندیوں کے اس پورے عمل کے دوران پنجاب میں کسی بھی علاقے کی انتظامی حدود (Administrative Boundaries) میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکے گی۔ اس کا مقصد عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور قانونی تقاضوں کے مطابق رکھنا ہے۔(خبر ایجنسی)








































