# یومِ تکبیر: تین عظیم شخصیات کی جدوجہد سے مضبوط پاکستان**تحریر: بیورو چیف (خبر ایجنسی)****تاریخ: 29مئی بسلسلہ 28 مئی 2026**ہر سال 28 مئی کو پاکستان بھر میں یومِ تکبیر قومی جوش و جذبے، فخر اور عقیدت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ وہ تاریخی دن ہے جب 1998ء میں بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام راس کوہ کی پہاڑیوں میں پاکستان نے پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کیے اور دنیا کی ساتویں جبکہ اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن گیا۔ اس عظیم کامیابی کے پیچھے تین اہم شخصیات کا کلیدی کردار تھا: ذوالفقار علی بھٹو، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور میاں محمد نواز شریف۔ ان تینوں کی مشترکہ جدوجہد نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔## تاریخی پس منظر: بھارت کے ایٹمی دھماکےمئی 1998ء میں بھارت نے پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں دفاعی توازن کو خطرے میں ڈال دیا۔ پاکستانی قوم شدید تشویش میں مبتلا تھی جبکہ عالمی طاقتیں پاکستان پر دباؤ ڈال رہی تھیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے۔ تاہم اُس وقت کے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف نے یہ فیصلہ کیا کہ خاموشی مستقبل میں مزید خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔## ذوالفقار علی بھٹو: خواب دیکھنے والے رہنما1971ء میں سقوطِ ڈھاکہ کے بعد پاکستان شدید بحران کا شکار تھا جبکہ بھارت خطے میں ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر رہا تھا۔ ایسے نازک وقت میں ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایک نیا حوصلہ دیا اور تاریخی الفاظ کہے:“ہم گھاس کھائیں گے، لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔”یہ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا وژن تھا۔ بھٹو نے 1972ء میں ملتان میں پاکستانی سائنسدانوں کا اہم اجلاس طلب کیا اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد مضبوط کی۔ انہوں نے پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن (PAEC) کو فعال بنایا اور بعد ازاں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان آ کر خدمات انجام دینے کی دعوت دی۔بین الاقوامی دباؤ، پابندیوں اور شدید مخالفت کے باوجود بھٹو اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ یہاں تک کہ قید و بند کے دوران بھی وہ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے دلچسپی لیتے رہے۔ اگر بھٹو یہ خواب نہ دیکھتے تو شاید پاکستان کبھی ایٹمی طاقت نہ بن پاتا۔## ڈاکٹر عبدالقدیر خان: ایٹمی پروگرام کے معمارذوالفقار علی بھٹو نے جس خواب کی بنیاد رکھی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اسے حقیقت کا روپ دیا۔ یورپ میں کام کے دوران انہوں نے یورینیم افزودگی کی جدید ٹیکنالوجی کا گہرا مطالعہ کیا اور پاکستان واپس آ کر کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز (KRL) کی قیادت سنبھالی۔انتہائی محدود وسائل اور عالمی مخالفت کے باوجود ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے مختصر عرصے میں پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے ہمکنار کر دیا۔ مغربی دنیا کا خیال تھا کہ پاکستان کئی دہائیوں تک یہ صلاحیت حاصل نہیں کر سکے گا، لیکن پاکستانی سائنسدانوں نے اپنی محنت اور لگن سے یہ تصور غلط ثابت کر دیا۔28 مئی 1998ء کو چاغی میں کامیاب ایٹمی دھماکوں کے بعد پوری قوم خوشی سے جھوم اٹھی۔ یہ لمحہ پاکستان کی دفاعی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب بن گیا۔## میاں محمد نواز شریف: جرات مندانہ فیصلہ1998ء میں جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تو میاں محمد نواز شریف پاکستان کے وزیرِ اعظم تھے۔ عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، نے پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے باز رکھنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا۔ اقتصادی پابندیوں اور مالی نقصانات کی دھمکیاں بھی دی گئیں، لیکن نواز شریف نے قومی سلامتی کو ترجیح دی۔انہوں نے پاکستانی سائنسدانوں اور افواج کو ضروری اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت دی اور بالآخر 28 مئی 1998ء کو پاکستان نے کامیاب ایٹمی دھماکے کر دیے۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا:“آج ہم نے بھارت کے ساتھ حساب برابر کر دیا ہے۔”یہ فیصلہ پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین فیصلوں میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ اس نے خطے میں طاقت کا توازن بحال کر دیا۔## تینوں شخصیات کا مشترکہ کردار* ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام کا خواب دیکھا اور اس کی بنیاد رکھی۔* ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی سائنسی مہارت سے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔* میاں محمد نواز شریف نے عالمی دباؤ کے باوجود جرات مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کو عملی طور پر ایٹمی طاقت بنایا۔ان تینوں کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان کا دفاع مضبوط ہوا اور ملک ناقابلِ تسخیر دفاعی قوت بن کر ابھرا۔## آج کا یومِ تکبیریومِ تکبیر ہر سال قومی فخر کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں تقریبات، سیمینارز اور خصوصی دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے جبکہ قوم اپنے سائنسدانوں اور قومی رہنماؤں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔## نتیجہیومِ تکبیر صرف ایک تاریخی دن نہیں بلکہ قومی عزم، قربانی اور خودمختاری کی علامت ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور میاں محمد نواز شریف نے اپنی اپنی سطح پر وہ کردار ادا کیا جس نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر دفاعی قوت بنا دیا۔آج پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت ہے اور یہ اعزاز ہمیشہ قوم کے لیے باعثِ فخر رہے گا۔**اللہ اکبر — پاکستان زندہ باد!**








































